.اسلام آباد کے ایک خفیہ سٹوڈیو میں اچانک سب سیاستدانوں کی آنکھ کھلتی ہے۔ نہ کوئی سیکیورٹی، نہ پروٹوکول — صرف ایک کیمرہ، لائٹس… اور ایک عجیب سا مائیک۔
نواز شریف خمار آلود آواز میں بولے:
"یہ کس کا سیٹ ہے؟ مجھے تو چائے کا کہا تھا… لندن میں ایسا نہیں ہوتا!"
مریم نواز فوراً لپ اسٹک ٹھیک کرتی ہیں اور بولتی ہیں:
"پاپا! کیمرہ آن ہے! مجھے بس ایک فلٹر لگانا ہے، پھر میں Live جاؤں گی!"
شہباز شریف فائلوں کا انبار اٹھائے آئے اور بولے:
"میں نے تو ریکارڈ وقت میں 32 پل اور 85 اسپتال بنائے، اور یہاں تو کرسی بھی نہیں ہے!"
اتنے میں شیخ رشید دوڑتے ہوئے داخل ہوئے، پسینے میں شرابور، اور ہاتھ میں ٹوٹا موبائل:
"مجھے لگا اپوزیشن کا اجلاس ہے، لیکن یہاں تو سب ریہرسل ہو رہی ہے!
بس ایک ہی بات کہوں گا…
پروگرام تو وار گیا!!"
ابھی سب سنبھل ہی رہے تھے کہ دروازہ ٹوٹتا ہے اور عمران خان شیر کی طرح انٹری مارتے ہیں:
"یہ سب ایک سازش ہے! کیمرے بھی امپورٹڈ ہیں، سکرپٹ بھی باہر سے آیا ہے۔
لیکن یاد رکھو…
میں آخری بال تک لڑوں گا، چاہے میچ ٹیپ بال سے ہو!"
نواز شریف نے حیران ہو کر پوچھا:
"یہ سب کیا ہو رہا ہے؟"
مریم:
"پاپا، بس کیمرہ دیکھتے رہیں، میں Thumbnail بنا رہی ہوں!"
شہباز:
"میں نے تو سوچا تھا وزیراعظم ہاؤس آؤں گا، یہ کیا ڈرامہ بن گیا؟"
شیخ رشید:
"او بھائی! یہ ڈرامہ نہیں، یہ تو TikTok کی Live شوٹنگ ہے!"
عمران خان:
"ریٹنگز میری ہیں، فالوورز میرے ہیں… باقی سب نیوٹرلز ہیں!"
پھر اچانک بریکنگ نیوز کی آواز آتی ہے:
"یہ شو کینسل کر دیا گیا ہے… کیونکہ سب نے ایک دوسرے کو بلاک کر دیا ہے!"
اور ایک آخری آواز گونجتی ہے:
"پروگرام… تو وار گیا!"