کہانی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب نواز شریف لندن سے ایک زبردست فائل بھیجتا ہے جس پر لکھا ہوتا ہے:
"وار ڈیزائن فار 2025: بس شروع کرو!"
اسلام آباد میں سب ہنگامے میں آ جاتے ہیں۔ عمران خان فوراً ٹیبل پر چڑھ کر تقریر شروع کر دیتا ہے:
"یہ حقیقی آزادی کی جنگ ہے! میں آخری بندہ ہوں جو لڑے گا! جب تک میری پکوڑے کی دکان ہے، میں نہیں رکوں گا!"
مودی اپنی کھڑکی سے چائے پی رہا ہوتا ہے، اور بولتا ہے:
"ارے بابا، پہلے ہمیں بتاؤ کہ لڑائی کس سے ہے؟ پاکستان یا مرغی فروش سے؟"
اسی دوران ڈی جی آئی ایس پی آر پوری سیریس میڈیا بریفنگ دے رہے ہوتے ہیں:
"ہماری افواج تیار ہیں، مرغی والے کو بھی چیک کر لیا گیا ہے، البتہ بریانی کے ریٹس ابھی کنفرم نہیں ہوئے!"
جب سب کی نظریں جنرل عاصم منیر کی طرف جاتی ہیں تو وہ آہستہ سے بولتے ہیں:
"یار، لڑنا تو ٹھیک ہے، پر لڑیں گے کس سے؟ نواز شریف کا ڈیزائن تو بس اکسل شیٹ ہے!"
اچانک پتا چلتا ہے کہ جنگی گاڑیاں تو نکل چکی ہیں، مگر سپاہیوں کو ناشتہ نہیں ملا۔ عمران خان خود آٹا اور انڈے لے کر آ رہا ہوتا ہے، اور مودی ٹویٹ کر رہا ہوتا ہے:
"پاکستان کے پکوڑے دنیا کے سب سے زیادہ خطرناک ہتھیار ہیں!"
آخرکار جب سب میدانِ جنگ میں پہنچتے ہیں، تو دشمن کی جگہ صرف ایک پرانا لاؤڈ اسپیکر بج رہا ہوتا ہے جس پر صرف یہی صدا آ رہی ہے:
"آج کی جنگ منسوخ کر دی گئی ہے، کیونکہ جنہوں نے لڑنا تھا وہ مرغی لینے نکل گئے ہیں!"
اگر کبھی لگے کہ دنیا سیریس ہے، تو یاد رکھو… سیاستدانوں کے جنگی پلان اکثر صرف ٹی وی بریکنگ نیوز تک محدود ہوتے ہیں۔